Wednesday, 22 April 2015

اسلامی تعلیم میں اضافہ اسلامی مدرسوں میں طلباء کا اضافہ

اسلام آباد: تعلیم اور پیشہ ورانہ تربیت کی وفاقی وزارت کی جانب سے منگل کو جاری کی گئی ایک رپورٹ کے مطابق لگ بھگ 18 لاکھ بچے، پاکستان میں مذہبی مدرسوں داخل ہیں۔یہ تعداد ملک میں تعلیمی اداروں میں داخل بچوں کا دسواں حصہ ہے۔
پاکستان ایجوکیشن اسٹیٹ اسٹکس 2013-14ء کی رپورٹ میں یہ انکشاف بھی کیا گیا ہے کہ پرائمری اسکولوں میں داخلوں کے حوالے سے کوئی اہم تبدیلی دیکھنے میں نہیں آئی اور پرائمری اسکولوں میں داخلہ لینے والے طالبعلموں کی تعداد تقریباً اتنی ہی رہی جس قدر کہ 2011-12ء کے دوران تھی۔
اس رپورٹ کے مطابق ملک میں ایک لاکھ 45 ہزار چار سو اکیانوے پرائمری اسکولوں (سرکاری و نجی دونوں) ہیں، جہاں تقریباً ایک کروڑ 70 لاکھ بچوں نے داخلہ لیا۔ اس کے برعکس تقریباً 18 لاکھ 40 ہزار طالبعلموں نے 14 ہزار چار سو پانچ رجسٹرڈ مدرسوں میں داخلہ لیا، جن میں سے 97 فیصد کا انتظام نجی طور پر جبکہ صرف 393 سرکاری شعبے کے تحت چلائے جارہے ہیں۔
تاہم اتحادِ تنظیم مدرسہ دینیہ کے جنرل سیکریٹری مولانا حنیف جالندھری کا کہنا ہے کہ ایک بڑی تعداد میں مدرسوں کو متعلقہ سرکاری محکموں کے ساتھ رجسٹرڈ ہیں۔ واضح رہے کہ یہ سرپرست تنظیم مدرسوں کے متعلق معاملات کی نگرانی کرتی ہے۔
اعداد و شمار پر مبنی یہ رپورٹ اکیڈمی برائے تعلیمی منصوبہ بندی و مینجمنٹ (اے ای پی اے ایم)، ایجوکیشن مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم (این ای ایم آئی ایس) اور تعلیمی مہم جو الف اعلان کی جانب سے تیار کی گئی ہے۔
ملک میں اسکول کی تعلیم کے مسائل پر روشنی ڈالتے ہوئے اس رپورٹ کا کہنا ہے کہ ’’تعلیمی رسائی کے لیے کیے جانے والے تمام اقدامات کو مجموعی طور پر دیکھا جائے تو تعلیمی ترقی کے اشاریے پر پاکستان بنگلہ دیش سے نیچے اور سری لنکا سے کافی نیچے ہیں۔‘‘
پچھلے چار برسوں کے دوران پرائمری اسکولوں میں داخلے کے حوالے سے کسی قسم کی اہم پیش رفت نہیں دیکھی گئی۔ 2011-12ء میں پرائمری اسکولوں میں طلباء کی تعداد ایک کروڑ 75 لاکھ 67 ہزار پانچ سو اکیاسی تھی، جس میں معمولی سا اضافہ ہوا اور یہ تعداد 2012-13ء میں ایک کروڑ 75 لاکھ 74 ہزار آٹھ سو اننچاس ہوگئی۔ جبکہ 2013-14ء میں پرائمری اسکولوں کے طلباء کی تعداد ایک کروڑ 78 لاکھ 69 ہزار آٹھ سو انسٹھ تھی۔
اسی عرصے کے دوران ہائی اسکولوں میں داخلے کی شرح میں معمولی سی کمی دیکھنے میں آئی، 2011-12ء کے دوران 26 لاکھ 91 ہزار پانچ سو پچانوے طلباء نے ہائی اسکولوں میں داخلہ لیا۔ 2012-13ء میں 28 لاکھ 35 ہزار تین سو چھبیس، جبکہ 2013-14ء کے دروان ہائی اسکولوں میں 23 لاکھ 18 ہزار آٹھ سو چالیس طلباء نے داخلہ لیا

آصف ذرداری منی لانڈرنگ میں ملوث

کراچی: پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما ذوالفقار مرزا نے سابق صدر آصف علی زرداری پر ماڈل ایان علی کے ذریعے منی لانڈرنگ کروانے کا الزام عائد کرتے ہوئے ان کے خلاف مشترکہ تفتیشی ٹیم (جے آئی ٹی) بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔
ڈان نیوز کے پروگرام ‘‘جائزہ’’ میں گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیر داخلہ سندھ کا کہنا تھا کہ بیرونِ ملک جانے والی رقم آصف زرداری کی تھی اور ایان علی کو وی آئی پی پروٹوکول کے ساتھ بلاول ہاؤس لایا اور لے جایا جاتا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ کہ اگر وہ گرفتار نہ ہوتیں تو فریال تالپور اور ہماری بھابھی ہوتیں۔
ذوالفقار مرزا کا کہنا تھا کہ آصف زرداری کے خلاف کرپشن کی تفتیش کرنا مشکل کام نہیں، لیکن وزیراعظم کے بیان کے باوجود بھی نیب کرپٹ لوگوں کے خلاف ایکشن نہیں لے رہا۔

‘پیپلز پارٹی اب وہ پیپلز پارٹی نہیں رہی’

آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو زرداری کے درمیان اختلافات سے متعلق پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ کچھ عرصہ قبل ٹی وی پر آکر زرداری نے اپنے بیٹے کے لیے جو الفاظ استعمال کیے ، ان کو سن کر کوئی بھی اس بات سے انکار نہیں کرے گا کہ دونوں کے درمیان اختلافات ہیں۔
جب ان سے بلاول اور زرداری میں اختلافات کی وجہ معلوم کی گئی تو انہوں نے کہا کہ بلاول کی وہی خواہش تھی جو آج رینجرز کررہی ہے اور جب انہوں نے اس خواہش کا اظہار کیا تو ان کی چھٹی کردی گئی۔
ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی اب وہ پیپلز پارٹی نہیں رہی اور اب یہ ایک 'کٹر زرداری لیگ' بن چکی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس جماعت میں اب صرف زرداری اور ان کے لوگوں کی بات سنی جاتی ہے۔
تاہم، سابق وزیر نے یہ بھی کہا کہ وہ سندھ کے لاچار عوام کو پیپلز پارٹی کی موجودہ قیادت سے آزادی دلانا چاہتے ہیں۔
خیال رہے کہ ماڈل ایان علی کو اسلام آباد ائیرپورٹ سے دبئی جاتے ہوئے اس وقت حراست میں لیا گیا تھا جب دورانِ چیکنگ ان سامان میں سے 5 لاکھ امریکی ڈالر برآمد ہوئے تھے۔
واضح رہے کہ اتنی بڑی رقم لے جانا کسٹم قوانین کے خلاف ہے اور منی لانڈرنگ کے زمرے میں آتا ہے۔

Tuesday, 21 April 2015

سعودی عرب نے یمن میں اپریشن کے خاتمے کا اعلان کر دیا

ریاض: سعودی افواج نے تقریباً ایک ماہ تک یمن میں آپریشن جاری رکھنے کے بعد اسے ختم کرنے کا اعلان کردیا ہے۔
سعودی افواج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل احمد العسیری کے مطابق سعودی افواج یمن میں آپریشن ختم کر رہی ہیں اور اب وہاں بحالی کا کام شروع ہوگا۔
ترجمان کا کہنا ہے کہ سعودی فوج یمن میں حوثی قبائل کےمخالف گروہوں کی مدد کرنے پر غور کررہی ہے جبکہ یمن میں انتہائی خطرناک اہداف کو تباہ کر دیا گیا ہے اور اب ایک نئے آپریشن کا آغاز کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ فضائی حملوں سےسعودی عرب کو لاحق خطرات ختم کردیئے گئے ہیں۔
ترجمان نے واضح کیا کہ فوجی آپریشن بند کرنے کا مطلب سیز فائر نہ سمجھا جائے۔
اس سے قبل ایران کے نائب وزیر خارجہ حسین عامر نے کہا تھا کہ انہیں امید ہے کہ یمن میں جلد جنگ بندی کا اعلان کردیا جائے گا۔
ایران متعدد مرتبہ سعودی عرب کی جانب سے اس کارروائی کو روکنے کا مطالبہ کرچکا ہے تاہم سعودی عرب اور اتحادی ممالک نے ایران کے اس مطالبے کو مسترد کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ ایران حوثیوں کی مدد کررہا ہے۔
سعودی عرب تقریباً ایک ماہ سے یمن کے حوثی قبائل کے خلاف کارروائی میں مصروف تھا۔
اس تنازع میں پاکستانی حکومت پر اس وقت دباؤ آیا جب سعودی عرب نے پاکستان سے یمن میں کارروائی کے سلسلے میں فوجی مدد طلب کی۔
تاہم پانچ روز تک پارلیمنٹ میں جاری رہنے والے اجلاس کے بعد سعودی عرب کے مطالبے کو نظر انداز کردیا گیا اور حکومت پر مذکورہ معاملے میں غیر جانبدار رہنے پر زور دیا گیا ۔
تاہم پاکستانی قانون سازوں کی جانب سے یمن کے بحران میں پاکستانی حکومت سے غیرجانبدار رہنے کے مطالبے پرسعودی عرب کا قریبی اتحادی ملک متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کی جانب سے سخت ردّعمل سامنے آیا ۔
متحدہ عرب امارات کے خارجہ امور کے ریاستی وزیر ڈاکٹر انور محمود گرگاش کا کہنا تھا کہ 'پاکستان اور ترکی کے مبہم اور متضاد مؤقف نے ایک یقینی ثبوت پیش کردیا ہے کہ لیبیا سے یمن تک عرب سلامتی کی ذمہ داری عرب ممالک کے سوا کسی کی نہیں ہے۔'
سعودی عرب کی سربراہ میں اتحادی افواج نے 26 مارچ کو یمن میں حملے شروع کیے تھے۔
عالمی ادارہ صحت کے مطابق حملوں میں اب تک 944 افراد ہلاک جبکہ 3 ہزار 487 زخمی ہوچکے ہیں۔

حفیظ ایک بار پھر میدان میں

آئی سی سی نے پاکستانی کرکٹر محمد حفیظ کا کا باؤلنگ ایکشن کلیئر قرار دے دیا ہے اور وہ اب بین الاقوامی کرکٹ میں باؤلنگ کر سکتے ہیں۔
حفیظ کا باؤلنگ ٹیسٹ نو اپریل کو ہندوستان کے شہر چنئی کی شری راما راما چندرا یونیورسٹی کی لیب میں ہوا تھا۔

نائن الیون کے بعد عالمی سیاسی منظرنامے نے گرگٹ کی طرح مختلف روپ دھارے ہیں۔ عالمی سرکس میں برپا ہونے والے سیاسی تماشے نے اس قدر سحر طاری کر رکھا ہے کہ مستقبل کی عالمی بساط پر کسی بھی قسم کی کوئی پیشگوئی کرنے کے لیے منطقی وعقلی دلائل بھی اتنے ہی غیر موزوں دکھائی دیتے ہیں جس قدر پاکستان کے چوک چوراہوں میں برپا ہونے والی سیاسی ریلیاں۔



ایک چیز جو نہایت واضح ہوئی ہے، وہ ہے ریاستوں کا اپنے مفادات کے حصول کے لیے کوئی بھی راہ اپنانا۔ ہرچند کہ بیسویں صدی میں سرد جنگ کے اختتام پر نظریاتی تقسیم پر مبنی سیاسی دنیاؤں کا خاتمہ ہوچکا تھا، مگر اِکا دُکا مقامات پر اس کے بعد بھی بعض عالمی سیاسی اکھاڑے وسیع سمندر میں واقع چھوٹے چھوٹے جزیروں کی مانند نظریاتی تقسیم کی لکیر واضح کر رہے تھے۔
عالمی امور کے طلبہ کو اس وقت ڈرامائی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا جب عرب اسپرنگ کے جن نے بوتل سے اپنا سر باہر نکال لیا، اور اس نکلتے ہوئے جن کو دیکھ کر بعض عرب بادشاہ اپنی جان بچانے کے لیے خود کو چھپانے کی کوششیں کرتے نظر آئے۔
حد تو اب ہونے کو آرہی ہے۔ پچھلے دو مہینوں کے عرصے میں عالمی سیاسی کھلاڑیوں نے شطرنج کے اس عالمی کھیل میں اس قدر سیاسی چالیں چلی ہیں کہ پے در پے نمودار ہونے والی بریکنگ نیوز بھی اب کسی قسم کی سنسنی پیدا کرنے میں ناکام ہوچکی ہیں۔
عالمی میڈیا کے مبصرین جو یوکرین اور شام کے تنازعات سے روزی روٹی کا سامان بنا رہے تھے، اب اتنے مختلف موضوعات میں الجھے ہوئے ہیں کہ انہیں سمجھ نہیں آرہا کہ وہ مشرقِ وسطیٰ پر رائے دہی کریں یا براعظم امریکہ پر۔ جبکہ یوکرین کی جنگ بھی سرد نہیں ہو پائی اور صدر پیوٹن بھی دو مہینے غیبت میں رہنے کے بعد نمودار ہو کر ایران کو S300 میزائل فروخت کرنے پر آمادگی ظاہر کرچکے ہیں۔
اور اگر امریکہ کیوبا تعلقات پہ توجہ دی جائے، تو خیال آتا ہے کہ اگر چی گویرا آج زندہ ہوتے تو اپنا سر دیوار میں ٹکرا کر پاش پاش کر چکے ہوتے, کیونکہ امریکہ اور کیوبا میں پگھلتی ہوئی برف کو آنچ صرف صدر اوباما نے ہی نہیں دی، بلکہ فیڈل کاسترو کے ہاتھ سے لکھے خطوط نے بھی اس میں اتنی ہی مدد کی ہے۔
یہاں قریب میں مشرقِ وسطیٰ چلے آئیں تو آنکھیں حیرت سے پھٹنے کو آتی ہیں۔ سعودی عرب، جو ماسکو کو اسی آنکھ سے دیکھتا ہے جس آنکھ سے کیدو رانجھے کو دیکھا کرتا تھا، برادرِ معظم و محترم عبدالفتح السیسی پر قربان ہوا جارہا ہے۔ اور حضرتِ سیسی ہیں کہ ماسکو سے پینگیں بڑھا رہے ہیں۔ اور ماسکو والے بھی تو حد درجہ منافق ہی ہوئے ناں؟ کہ ریاض کو تو ٹیڑھی آنکھ سے دیکھتے ہیں اور تہران پر صدقے واری جاتے ہیں۔
اور ذرا اس چھوٹے سے قطر پہ دھیان دیجیے۔ ایک طرف تو یہ خلیج تعاون کونسل میں سعودی عرب کی قیادت میں حوثیوں کو راہِ عدم دکھا رہا ہے، تو ایک خفیہ ہاتھ سے شام میں سعودی مفادات پر لٹکتی ہوئی تلوار کی دھار کو بھی تیز کیے جاتا ہے۔
السیسی ایک جانب تو قطر کو آنکھیں دکھاتے ہیں کہ خبردار جو اگر ہمارے اندرونی معاملات میں مداخلت کی تو! اور پھر اسی قطر کے شانہ بشانہ یمن کے اندرونی معاملات میں مداخلت اپنا حق سمجھتے ہوئے کیے جاتے ہیں۔
تہران، جس کے چار ہاتھ بیروت، دمشق، بغداد، اور صنعاء میں مصروف ہیں، ایک پانچویں ہاتھ سے پاکستان کو پاکستان کے ہی علاقے میں تحفظ فراہم کرنے کی پیشکش کر چکا ہے۔
اب جبکہ عالمی سیاست کی اس چومکھی لڑائی میں وطنیت پر مبنی ریاستیں اپنے قومی مفادات جیتنے کے لیے رنگ، نسل، نظریہ، مذہب، مسلک، اور لاکھوں انسانوں تک کی قربانی کے حربے استعمال کر رہی ہیں، تو وطنِ عزیز آج بھی غیروں کے مفادات میں قربان گاہ کیوں بن رہا ہے؟
ذراغور کیجیے کہ اگر کیوبا اور امریکہ پچاس سال بعد بھی مسائل حل کرنے کے لیے مذاکرات کی میز پہ بیٹھ سکتے ہیں۔
اگر ماسکو تہران اور قاہرہ دونوں کا بیک وقت دفاعی پارٹنر ہوسکتا ہے۔
اگر شیعہ ایران سنی حماس کا پشت پناہ ہوسکتا ہے۔
اگر امریکہ اور ایران، عراق اور افغانستان میں برگر اور قہوہ ایک ساتھ انجوائے کر سکتے ہیں۔
اگر حوثی چالیس سال سعودی امداد کھانے کے بعد بھی سعودیوں کو آنکھیں دِکھا سکتے ہیں۔
اگر شیطانِ بزرگ امریکہ اور رہبرِ معظم علی خامنہ ای خطوط کا تبادلہ کرسکتے ہیں۔
اگر یوکرین کریمیا دے کر بھی روس کے ساتھ امن پر راضی ہوسکتا ہے۔
اور تو اور اگر احمدی نژاد والا ایران مغرب اور امریکہ کے سامنے یورینیم کی افزودگی کم کرنے کا معاہدہ قبول کر سکتا ہے، تو یہ بات ثابت ہو جاتی ہے کہ وسیع تر قومی مفادات کا حصول ہر اس قول، وعدے، اور معاہدے پر بھاری ہوتا ہے جو ریاستیں مختلف اوقات میں وقتی فوائد حاصل کرنے کے لیے کیا کرتی ہیں۔
کاش! پاکستان کے حکمران یہ سمجھ لیتے کہ لاہور، کراچی، پشاور، کوئٹہ، گلگت، اور مظفرآباد کی سالمیت اور ان کا تحفظ دنیا جہاں کے امن اور سالمیت سے کہیں زیادہ اہم ہے، تو یقین جانیے کہ عالمی نقشے پر خوردبین سے دکھائی دینے والی ایک ریاست کا وزیر ہمیں خطرناک نتائج کی دھمکیاں دینے کی ہمت نہ کر سکتا۔

نواز شریف نے عمران خان کو چھیڑ دیا

اسلام آباد: قومی اسمبلی میں چینی صدر شی جن پنگ سے پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ کے مصافحے کے دوران وزیراعظم نواز شریف کے طنزیہ جملے نے عمران خان کو مشکل میں ڈال دیا۔
پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کے بعد چین کے صدر زی جن پنگ جب پارلیمنٹ کی اگلی نشستوں پر موجود پاکستانی قانون سازوں سے مصافحے کے لیے آئے تو ان کے ساتھ سپیکر قومی اسمبلی سردارایاز صادق اور وزیراعظم بھی موجود تھے۔
اس موقع پر موجود ذرائع کا کہنا ہے کہ جب چین کے صدرعمران خان سے مصافحہ کرنے لگے تو وزیراعظم نواز شریف نے ایاز صادق سے 'قومی زبان' میں سرگوشی کرتے ہوئے کہا کہ ان کو (چینی صدر) کو یہ بھی بتائیں کہ خان صاحب کی وجہ سے یہ (چینی صدر) 4 مہینے پہلے نہیں آسکے'۔
اس موقع پر موجود ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم کی جانب سے کہے جانے والے طنزیہ جملوں نے عمران خان کو مشکل میں ڈال دیا اور وہ پریشان نظر آئے اس موقع پر عمران خان نے وزیراعظم کے اس روئیے پر پی ٹی آئی کے رہنماوں کی جانب شکایتی نگاہوں سے بھی دیکھا۔
واقعے کے حوالے سے پی ٹی آئی کے نائب چیئرمین شاہ محمود قریشی نے ڈان کو بتایا کہ جملوں کا تبادلہ انتہائی دوستانہ ماحول میں ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ عمران خان نے وزیر اعظم نواز شریف کے جملے کے جواب میں کہا کہ' ماضی میں موجود مسئلے کو اب حل کرلیا گیا ہے'۔
خیال رہے کہ چین کے صدر کا پاکستان کا دورہ گزشتہ سال ستمبر میں شیڈول تھا، تاہم پی ٹی آئی کی جانب سے اسلام آباد میں قائم پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے جاری دھرنوں کے باعث یہ دورہ منسوخ کردیا گیا تھا۔
دوسری جانب چین کے صدر کی جانب سے گزشتہ ماہ 23 مارچ کو پاکستان کے قومی دن کے حوالے سے منعقدہ تقریبات میں بھی شرکت کرنے کے لیے بھی پاکستان کا دورہ متوقع تھا، تاہم اس وقت چینی صدر کی ملکی مصروفات کے باعث یہ دورہ بھی منسوخ ہوگیا تھا۔

اب کراچی سے لاہور صرف 2 گھنٹے میں

جاپان میں ایک جدید ’میگلیو‘ ٹرین نے اپنے آزمائشی سفر کے دوران 600 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کرکے نیا عالمی ریکارڈ بنا لیا ہے۔
سات بوگیوں کی اس ٹرین نے اس آزمائشی سفر کے دوران ایک موقع پر 603 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے بھی سفر کیا اور مسلسل 11 سیکنڈ 600 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے زائد سے سفر کیا۔
گزشتہ ہفتے اسی کمپنی کی ٹرین سے اپنے 2003 کے سابقہ ریکارڈ کو توڑتے ہوئے 590 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کرکے ریکارڈ قائم کیا تھا۔
'میگلیو' ٹرین اپنے ٹریک سے تقریباً چار انچ اوپر ہوا میں معلق ہوتی ہے اور اسے برقی مقناطیسیت کے اصول کے تحت چلتی ہے۔
جاپانی کے ریلوے حکام اس ٹرین کو 2027 تک عام استعمال کے لیے پیش کرنا چاہتے ہیں اور پہلی ٹرین جاپان کے دارالحکومت ٹوکیو اور ناگویا کے درمیان چلائی جائے گی۔
اس ٹرین کی زیادہ سے زیادہ رفتار 500 کلومیٹر رکھی جائے گی اور یہ ٹوکیو اور ناگویا کے درمیان 286 کلومیٹر کا فاصلہ 40 منٹ میں طے کرے گی۔