Tuesday, 21 April 2015

مہمان اللہ کی رحمت

کابل: ایک مشہور کہاوت ہے کہ ’’بیگانی شادی میں عبداللہ دیوانے‘‘، تاہم اس کہاوت کا عملی مظاہرہ افغانستان کے دارالحکومت کابل میں ہر روز دیکھنے میں آتا ہے، جہاں سینکڑوں نوجوان ہر رات کسی نہ کسی شادی کی جگہ کا پتہ کر لیتے ہیں اور مہمان بن کر پہنچ جاتے ہیں۔
نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق کچھ ایسا ہی نظارہ شفیق اللہ کو اپنی شادی میں دیکھنے کو ملا۔ وہ 600 اضافی مہمانوں کو اپنی شادی میں دیکھ کر حیران رہ رہ گئے۔ ان میں سے کسی ایک سے بھی وہ واقف نہیں تھے۔
ان کا کہنا ہے کہ کہ اگر میں ان کو کھانا سے منع کرتا تو اس سے میری بےعزتی ہوتی اور میری شادی کی خوشیاں برباد ہو جاتیں۔
کاروں کی فروخت کے کاروبار سے وابستہ شفیق اللہ نے باورچی کو فوری طور دگنا کھانا تیار کرنے کے لیے کہا۔ اس کے لیے انہیں کئی گنا بل بھی ادا کرنا پڑا۔ چنانچہ ان کی شادی تقریباً تیس لاکھ روپے کی رقم خرچ ہوئی۔
کئی ملک ایسے میں جہاں شادی میں شرکت کے لیے دولہا دلہن طرف سے 500 مہمان بھی میسر نہیں آتے۔ تاہم افغانستان میں ایسا کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ اتنے مہمان تو بغیر بلائے ہی وہاں شادیوں میں پہنچ جاتے ہیں۔ اور افغانستان میں یہ ایک عام سی بات سمجھی جاتی ہے، جہاں شادی کے موقع پر مہمان نوازی کے عزم اور خاندان و برادری کے لیے ایثار کا مظاہرہ کیا جاتا ہے۔
مگر، افغانستان جہاں بڑی تعداد میں بن بلائے مہمان شادی میں پہنچ جاتے ہیں، اس روایت کی وجہ سے اتنے لوگوں کا کھانے کا انتظام کرنے میں کئی افغانی نوجوان برباد ہو جاتے ہیں۔ وہ شادی کے اخراجات کے لیے قرض لیتے ہیں، جسے ادا کرنے میں کئی سال لگ جاتے ہیں۔
شفیق اللہ نے اپنی شادی میں 700 مہمانوں کو دعوت دی تھی۔ اس کے علاوہ دلہن کی جانب سے بھی مہمان شریک تھے۔ مگر شادی میں تقریباً 1300 افراد اکھٹا ہوگئے۔ وہ بتاتے ہیں کہ آدھے سے زیادہ مردوں کو انہوں نے زندگی میں پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔
اتنے مہمانوں کے شادی میں شرکت کے باوجود بھی شفیق اللہ کے کئی دوست ان سے شکایت کرتے ہیں کہ انہوں نے شادی کی دعوت نہیں دی۔ شادی پر بے انتہا خرچ کی وجہ سے بہت سے لوگوں کی کافی عرصے سے شادیاں رُکی ہوئی ہیں۔

ریڈار سسٹم پر دہشتگردوں کا حملہ

کوئٹہ: گوادر کے علاقے پسنی میں موجود ہوائی ٹریفک کنٹرول ریڈار سسٹم پر مبینہ طور دہشت گردوں نے حملہ کردیا تاہم ریڈار کسی بھی قسم کے نقصان سے محفوظ رہا ۔
حملے کے بعد ریڈار کا کراچی اور دیگر علاقوں سے رابطہ منقطع ہو گیا تھا۔
سرکاری حکام کے مطابق عسکریت پسندوں کے ایک گروپ نے پیر اور منگل کی درمیانی شب پسنی کے قریب موجود ہوائی ٹریفک کو کنڑول کرنے والے ریڈار سسٹم کو راکٹوں سے نشانہ بنایا۔
اس موقع پر ریڈار سسٹم کی حفاظت پر مامور سیکیورٹی فورسز کے اہلکاروں نے جوابی کارروائی کی گئی۔
سول ایوی ایشن اتھارٹی (جنوبی) کے جنرل مینجر قاضی مقبول نے ڈان کو بتایا کہ 'ریڈار محفوظ ہے' جبکہ حملے کے بعد ریڈار کو عارضی طور پر کچھ دیر کے لیے بند کردیا گیا تھا۔
ذرائع کے مطابق واقعے میں کسی قسم کا جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔
ریڈار کی جزوی بندش کے باعث ایئر ٹریفک کا کنٹرول کچھ دیر کے لیے متاثر ہوا تھا۔

دستخط یا استعفہٰ

اسلام آباد: مایع قدرتی گیس کے تین سرکاری اسٹیک ہولڈرز نے ایک ڈرامائی صورتحال میں ایل این جی کے سہ فریقی معاہدے پر دستخط کرنے پر مجبور کیا گیا، جبکہ اس کے خلاف ان کی انتظامیہ مزاحمت کررہی تھی۔
وزارتِ پٹرولیم کے ایک عہدے دار نے بتایا ’’ایس ایس جی سی ایل اور ایس این جی پی ایل کے حکام کو عملی طور پر تقریباً تین دن تک یرغمال بنائے رکھا اور ایل این جی کی درآمدات اور اس کو دوبارہ گیس میں تبدیل کرنے کے لیے پی ایس او کے ساتھ ایک معاہدے پر دستخط کرنے پر مجبور کیا گیا۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ گیس کے دونوں اداروں کے نمائندے اپنے بورڈز کی منظوری کے بغیر اس معاہدے پر دستخط کے لیے تیار نہیں تھے۔‘‘
ان کمپنیوں میں سے ایک کے بورڈز آف ڈائریکٹرز کے ایک رکن نے کہا ’’انہیں آدھی رات تک بیٹھے رہنے پر مجبور کیا گیا تاکہ وہ اس معاہدے پر دستخط کردیں۔‘‘
ذرائع کا کہنا ہے کہ پٹرولیم اور قدرتی وسائل کی وزارت نے ان تینوں کمپنیوں کے مینیجنگ ڈائریکٹروں سے کہا تھا کہ پیر کو اس معاہدے پر دستخط کریں یا پھر گھر جانے کے لیے تیار ہوجائیں۔
یہ صورتحال ایسے وقت میں پیدا ہوئی، جب پانچ کروڑ ڈالرز کی پہلی قسط کی ادائیگی میں چند دن رہ گئے تھے، اس لیے کہ ایل این جی کو دوبارہ گیس میں تبدیل کرنے اور پورٹ قاسم پر اینگرو ٹرمینل کے ذریعے ملکی نیٹ ورک کو فراہمی کے انتظامات میں حکومت ناکام رہی تھی۔
ذرائع کے مطابق اب تک ایل این جی کے انتظامات نہیں کیے گئے ہیں اور اینگرو ٹرمینل پر 16 اپریل سے کوئی کارروائی نہیں ہوئی ہے۔
ایک عہدے دار نے بتایا ’’اینگرو نے بطور خیرسگالی کے اپنے سروس چارجز معاف کردیے ہیں، اکیس اپریل تک ایس ایس جی سی ایل کی ضمانت پوری ہوجائے گی۔‘‘
ذرائع کا کہنا ہے کہ سوی سدرن گیس کمپنی لمیٹڈ (ایس ایس جی سی ایل)، سوئی نادرن گیس پائپ لائن لمیٹڈ (ایس ان جی پی ایل) اور پاکستان اسٹیٹ آئل (پی ایس او) کی قانونی اور ٹیکنیکل ٹیمیں اس سہ فریقی معاہدے میں داخل ہونے کے لیے تین دن سے زیادہ عرصے تک اسلام آباد میں روکے رکھا گیا تھا۔
ایس ایس جی سی ایل اور ایس این جی پی ایل کی انتظامیہ اس معاہدے پر دستخط کرکے خود کو پی ایس او اور بین الریاستی گیس کمپنی لمیٹڈ (آئی ایس جی سی ایل) کے حوالے کرنے سے گریزاں تھی، اس لیے کہ اس سے عوام کو ایل این جی کی فراہمی میں ناکامی کی تمام ذمہ داری ان پر ڈال دی گئی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ بورڈ اور انتظامیہ کی منظوری کے بغیر اس طرح دستخط کرنے سے کمپنیز آرڈیننس، ایسوسی ایشن کی شقوں، سرکاری شعبے کے کوڈ، آئل اینڈ گیس اتھارٹی کے قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔
انہوں نے کہا ’’یہ معاہدہ کمپنیوں کے لیے مالیاتی خطرہ ثابت ہوگا، اور ایک مخصوص پارٹی کو فائدہ پہنچانے کے لیے اہم شیئر ہولڈر کو نقصان پہنچایا جارہا ہے۔‘‘
اندرونی ذرائع کا کہنا ہے کہ ’’ان تینوں میں سے ایک مینجنگ ڈائریکٹر نے اس معاہدے پر دستخط کردیے اور اس دستخط کو بورڈ آف ڈائریکٹرز کی منظوری سے مشروط کردیا۔‘‘
گزشتہ جمعہ کو ایس این جی پی ایل کے مینجنگ ڈائریکٹر عارف حمید سے اس سہ فریقی معاہدے پر دستخط کے لیے کہا گیا، لیکن انہوں بورڈ کی منظوری کے بغیر اس بات کو ماننے سے انکار کردیا۔
ان سے کہا گیا کہ اگر وہ معاہدے پر دستخط نہیں کرسکتے تو پھر وہ استعفیٰ دے دیں۔
اطلاع ہے کہ عارف حمید نے اس معاہدے پر دستخط کیے بغیر کمپنی چھوڑ دی ہے۔
ایس این جی پی ایل کے بورڈ کے ایک رکن نے ڈان کو بتایا کہ عارف حمید کو بورڈ آف ڈائریکٹرز کی جانب سے ایس این جی پی ایل کے ہیڈکوارٹرز واپس بلالیا گیا تھا، اور انہیں اپنی مکمل حمایت کا یقین دلایا گیا اور انہیں مشورہ دیا گیا کہ وہ نہ تو استعفیٰ دیں، اور نہ ہی بورڈ کے مشورے کے بغیر کسی معاہدے پر دستخط کریں۔
ایل این جی کی فراہمی کے پچھلے معاہدے کے تحت ایس ایس جی سی ایل اور ایس این جی پی ایل کے بورڈ اجلاسوں کی کاروائیوں میں یہ واضح عزم کیا گیا تھا، کہ بالفرض ایل این جی کو گیس میں تبدیل کرکے فراہمی میں ناکامی کی صورت میں پی ایس او جرمانہ ادا کرے گا۔
سرکاری ذرائع کے مطابق اب تک پی ایس او قطر گیس یا کسی دوسرے سپلائرز کے ساتھ خریدوفروخت کے معاہدے میں ناکام رہا ہے۔
ایک گیس کمپنی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے ایک رکن نے کہا کہ اس کے علاوہ پی ایس او، آئی ایس جی سی ایل کی مجموعی ذمہ داری تھی، اور بالواسطہ طور پر اینگرو اور پورٹ قاسم کی بھی کہ بڑے جہازوں کی ٹریفک کے لیے چینل کی گہرائی درکار تھی۔
انہوں نے کہا کہ بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا اس کی اعلیٰ سطحی تحقیقات نہیں کی جانی چاہیے کہ مجوزہ ٹرمینل کی تعمیر کے لیے درخواست کس نے تیار کی تھی، کس نے اینگرو کو بطور ٹرمینل آپریٹر منتخب کیا تھا، اور کس نے ایل این جی کی سپلائی کے معاہدے کو تیار کیا اور اس پر دستخط کیے، جس کی پوری ذمہ داری گیس کمپنیوں پر ڈال دی گئی، اس حقیقت کے باوجود کہ وہ سپلائی کی چین میں سب سے آخری سرے پر تھیں۔
مذکورہ بورڈ کے رکن نے کہا کہ انہیں وزارتِ پٹرولیم کی جانب سے کہا گیا تھا کہ ان کے حکم کی پیروی نہ کرنے کی صورت میں ناصرف ایس این جی پی ایل اور ایس ایس جی سی ایل کے مینجنگ ڈائریکٹروں کو برطرف کردیا جائے گا، جن کی حال ہی میں تقرری ہوئی تھی، بلکہ پورے بورڈ آف ڈائریکٹرز کو بھی۔

زمباوے مئی میں پاکستان آئے گا

پیر کو یہاں پی سی بی گورننگ بورڈ کے اجلاس کے بعد شہریار نے میڈیا بریفنگ میں بتایا کہ زمبابوے مئی کے اواخر میں ایک ہفتے کے لیے یہاں آئے گی اور ان کی سیکیورٹی ٹیم جلد ہی پاکستان آئے گی۔
چیئرمین پی سی بی نے بتایا کہ زمبابوے کو کراچی میں کھیلنے پر کچھ تحفظات ہیں لیکن کوشش ہے کہ مہمان ٹیم کراچی اور لاہورمیں میچ کھیلے۔
’کوشش ہے کہ زمبابوے کا میچ ڈیفنس کے ساؤتھ اینڈ کلب میں ہو کیونکہ نیشنل اسٹیڈیم سے ہوٹل بہت دور ہے اور یہی وجہ ہے کہ ہم نے آئی سی سی سی ساؤتھ اینڈ کلب کو ٹیسٹ اسٹیٹس دینے کا مطالبہ کیا ہے‘۔
چیئرمین نے مزید بتایا کہ آسٹریلین آرمی کرکٹ ٹیم آئندہ ہفتے جبکہ بنگلہ دیش کی ویمن ٹیم بھی جلد آئے گی۔’ہم نے بہت سے ممالک کو پاکستان آنے کی دعوت دی ہے‘۔
ان کا کہنا تھا کہ انڈین کرکٹ بورڈ نے دسمبر میں ہونے والی سیریز حکومتی اجازت سے مشروط کی ہے۔
قومی ٹیم کی موجودہ پرفارمنس کے حوالے سے شہریار خان نے کہا کہ پاکستان کی کارکردگی دیکھ کر مایوسی ہوئی لیکن ہار کے باوجود وہ ٹیم پر تنقید نہیں کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ ہار کے باوجود نوجوان کھلاڑیوں کی کارکردگی کے صورت میں کچھ مثبت چیزیں سامنے آئی ہیں۔’ٹیم اور ہیڈ کوچ وقار یونس پر تنقید قبل از وقت ہے‘۔
ان کا کہنا تھا کہ نجم سیٹھی جون میں انٹرنیشنل کرکٹ کونسل(آئی سی سی) کے صدر بن جائیں گے لیکن سیٹھی کے دور صدارت کے بعد اس عہدے کے لیے ٹیسٹ کرکٹر ہونا لازمی شرط ہو گی۔
آئی سی سی اجلاس کے حوالے سے سوال پر چیئرمین پی سی بی نے بتایا کہ پاکستان اور زمبابوے نے اجلاس میں سری لنکن کرکٹ بورڈ کی حمایت کی لیکن بورڈ میں سیاسی مداخلت کے باعث آئی سی سی کے تمام اراکین نے سری لنکا کی اجلاس میں مخالفت کی۔
چیئرمین پی سی بی نے اس موقع پر خواتین کرکٹرز کے لیے ویلفیئرپالیسی کا بھی اعلان کیا۔

Monday, 20 April 2015

کراچی کے شہری اپنا اصل شناختی کارڈ اپنے پاس رکھیں

رینجرز نے کراچی کے شہریوں سے دورانِ سفر شناخت کی تصدیق کیلئے اصل کمپیوٹرائزڈ شناختی کارڈ ساتھ رکھنے کی درخواست کی ہے۔
پیر کی شام جاری ہونے والے ایک اعلامیہ میں رینجرز نے کہا کہ چیکنگ کے دوران شناختی کارڈ کی فوٹو کاپی قابل قبول نہیں ہو گی۔
رینجرز کے مطابق، سی این آئی سی نہ رکھنے والے مشکوک افراد کو شناخت کی مکمل تصدیق تک زیر حراست بھی رکھا جا سکتا ہے۔
خیال رہے کہ سیکورٹی فورسز کراچی میں کچھ عرصے سے جرائم پیشہ افراد کے خلاف ٹارگیٹڈ آپریشن جاری رکھے ہوئے ہیں۔
23 اپریل کو کراچی کے حساس حلقے این اے-246 میں ضمنی الیکشن بھی ہونا ہیں ، جہاں متحدہ قومی موومنٹ ، پاکستان تحریک انصاف اور جماعت اسلامی کے درمیان سخت مقابلہ متوقع ہے۔
رینجرز نے اپنے اعلامیہ میں مزید بتایا کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے دن، رات مجرموں، ٹارگٹ کلرز کے خلاف سرگرم ہیں اور اہیسے میں شہریوں سے تعاون کی درخواست ہے۔
بیان میں شہریوں سے کہا گیا ہے کہ اگر کوئی ان سے سی این آئی سی چھیننے یا زبردستی لینے کی کوشش کرے تو ہیلپ لائن 1101 پر فوری اطلاع دی جائے۔

پا کستان کو امریکی فوجی امداد کی ضرورت نہیں

نیو یارک: امریکا میں پاکستان کے سابق سفیر حسین حقانی کا ملک میں شدت پسندی سے نمٹنے کے لیے امریکا کی جانب سے دی جانے والی فوجی امداد کی مخالفت کرتے ہوئے کہنا ہے کہ اس سے جنوبی ایشیاء میں موجود کشیدہ صورتحال میں مزید اضافہ ہوجائے گا۔
خیال رہے کہ اوباما حکومت کی جانب سے رواں ماہ کے آغاز میں یہ اعلان کیا گیا ہے کہ وہ پاکستان کو ایک ارب ڈالر مالیت کے ہیلی کاپٹر، میزائل اور دیگر ہتھیار فراہم کرے گا۔
حیسن حقانی کا کہنا ہے کہ پاکستان میں موجود عسکریت پسندوں سے نمٹنے میں دشواری کی وجہ ہتھیاروں کی کمی نہیں بلکہ 'مرضی کا شامل نہ ہونا ہے'۔
انہوں نے کہا کہ جوہری ہتھیاروں کی موجودگی کی صورت میں ہندوستان کی روایتی فوج سے پاکستان کو غیر محفوظ تصور کرنے کی وجہ موجود نہیں ہے۔
سابق سفیر نے کہا کہ امریکا کی جانب سے پاکستان کو فوجی امداد کی فراہمی سے پاکستان میں خط غربت سے نیچے زندگی گزارنے والے دو کروڑ سے زائد پاکستانیوں میں عسکریت پسندی جنم لے سکتی ہے۔
حیسن حقانی کا کہنا ہے کہ پاکستان کو ہندوستان کے حوالے سے موجود اپنے نظریے میں تبدیلی لانا ہوگی کیونکہ اگر ایسا نہ ہوا تو امریکا کی جانب سے فراہم کیا جانے والا فوجی سازوسامان شدت پسندوں کے بجائے ہندوستان کے مبینہ خطرے کے خلاف استعمال کے لیے تعینات کیا جائے گا۔
حقانی نے کہا کہ ہندوستان سے مقابلہ ہمیشہ سے پاکستان کی خارجہ اور داخلی پالیسیز کا حصہ رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ امریکا ہمیشہ سے پاکستان کے ہندوستان سے فوجی برابری کے خود ساختہ فریب کو کافی حد بڑھاوا رہا ہے اور اسی کے تحت کانگریشنل ریسرچ سروس کے مطابق 1950ء سے اب تک امریکا پاکستان کو 40 ارب ڈالر فراہم کرچکا ہے۔
حسین حقانی نے کہا کہ پاکستان کو مزید فوجی سازوسامان فراہم کرنے سے بہتر ہے کہ امریکی حکام پاکستان کو قائل کریں کہ وہ ہندوستان کے حوالے سے پریشان ہونا چھوڑ دیں، اس لیے کہ یہ ایسا ہی ہے جیسے کہ بیلجیم کا فرانس یا جرمنی سے مقابلہ کرنا۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر جاری کی گئی ویڈیو کے مطابق ایک ساحل کے قریب داعش کے جنگجو 15 عیسائیوں کے سر قلم کررہے ہیں جبکہ دیگر 15 افراد کو گولی مار دی گئی—۔فوٹو/ رائٹرز سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر جاری کی گئی ویڈیو کے مطابق ایک ساحل کے قریب داعش کے جنگجو 15 عیسائیوں کے سر قلم کررہے ہیں جبکہ دیگر 15 افراد کو گولی مار دی گئی—۔فوٹو/ رائٹرز

قاہرہ: دولت اسلامیہ (داعش)کی جانب سے جاری کی گئی حالیہ ویڈیو میں لیبیا میں 30 ایتھوپین عیسائیوں کو قتل کرنے کا انکشاف ہوا ہے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق اگرچہ سماجی رابطے کی ویب سائٹس پر جاری کی گئی اس ویڈیو کی صداقت کی تصدیق نہیں کی جاسکی، تاہم اس میں جس طرح مغویوں کو قتل کیا گیا وہ بالکل ماضی کے واقعات جیسا ہی ہے۔
ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک ساحل کے قریب داعش کے جنگجو 15 عیسائیوں کے سر قلم کررہے ہیں جبکہ دیگر 15 افراد کو گولی مار دی گئی۔
ویڈیو میں 'کراس (صلیب) کے ماننے والے دشمن ایتھوپین عیسائی' کے الفاظ پر مشتمل تحریر بھی دیکھی جاسکتی ہے، تاہم لیبیا کے حکام کی جانب سے اس حوالے سے کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا۔
ایتھوپیا کا کہنا ہے کہ ابھی اس بارے میں کچھ کہنا قبل ازوقت ہے کہ ویڈیو میں دکھائے گئے افراد اس کے شہری ہیں، تاہم حکومتی ترجمان ریڈوام حسین کے مطابق حکومت اس اقدام کی مذمت کرتی ہے۔
انھوں نے کہا کہ لیبیا میں ایتھوپیا کا کوئی سفارت خانہ نہیں ہے، تاہم اپنے شہریوں کو لیبیا چھوڑنے میں حکومت مدد فراہم کرے گی۔
حالیہ ویڈیو میں سیاہ لباس میں موجود ایک شخص نے عیسائی مغویوں پر پستول تان رکھی ہے، جب کہ کیمرے کی جانب دیکھتے ہوئے اُس نے کہا 'تمہارے مذہب کے نام پر مسلمانوں کا خون کا بہنا اتنا سستا نہیں ہے'۔
ویڈیو کے آخر میں عیسائیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ 'ہم دوبارہ واپس آگئے ہیں'، ساتھ ہی یہ وارننگ بھی دی گئی ہے کہ عیسائی اُس وقت تک محفوظ نہیں رہیں گے جب تک وہ اسلام قبول نہ کرلیں یا پھر اپنی حفاظت کے لیے مقررہ رقم ادا نہ کردیں۔
یاد رہے کہ داعش سے تعلق رکھنے والے جنگجوؤں نے رواں برس لیبیا میں کئی ہائی پروفائل قتل کے واقعات کا دعویٰ کیا ہے۔
چند ماہ قبل بھی اسلامک اسٹیٹ عرف داعش کی جانب سے انٹرنیٹ پر جاری کی گئی ویڈیو میں 21 عیسائی مصری شہریوں کو قتل کرتے ہوئے دکھایا گیا تھا، ساتھ ہی مصری صدر کو “مناسب” سزا تجویز کرنے پر بھی اکسایا گیا تھا