Monday, 20 April 2015

کراچی کے شہری اپنا اصل شناختی کارڈ اپنے پاس رکھیں

رینجرز نے کراچی کے شہریوں سے دورانِ سفر شناخت کی تصدیق کیلئے اصل کمپیوٹرائزڈ شناختی کارڈ ساتھ رکھنے کی درخواست کی ہے۔
پیر کی شام جاری ہونے والے ایک اعلامیہ میں رینجرز نے کہا کہ چیکنگ کے دوران شناختی کارڈ کی فوٹو کاپی قابل قبول نہیں ہو گی۔
رینجرز کے مطابق، سی این آئی سی نہ رکھنے والے مشکوک افراد کو شناخت کی مکمل تصدیق تک زیر حراست بھی رکھا جا سکتا ہے۔
خیال رہے کہ سیکورٹی فورسز کراچی میں کچھ عرصے سے جرائم پیشہ افراد کے خلاف ٹارگیٹڈ آپریشن جاری رکھے ہوئے ہیں۔
23 اپریل کو کراچی کے حساس حلقے این اے-246 میں ضمنی الیکشن بھی ہونا ہیں ، جہاں متحدہ قومی موومنٹ ، پاکستان تحریک انصاف اور جماعت اسلامی کے درمیان سخت مقابلہ متوقع ہے۔
رینجرز نے اپنے اعلامیہ میں مزید بتایا کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے دن، رات مجرموں، ٹارگٹ کلرز کے خلاف سرگرم ہیں اور اہیسے میں شہریوں سے تعاون کی درخواست ہے۔
بیان میں شہریوں سے کہا گیا ہے کہ اگر کوئی ان سے سی این آئی سی چھیننے یا زبردستی لینے کی کوشش کرے تو ہیلپ لائن 1101 پر فوری اطلاع دی جائے۔

پا کستان کو امریکی فوجی امداد کی ضرورت نہیں

نیو یارک: امریکا میں پاکستان کے سابق سفیر حسین حقانی کا ملک میں شدت پسندی سے نمٹنے کے لیے امریکا کی جانب سے دی جانے والی فوجی امداد کی مخالفت کرتے ہوئے کہنا ہے کہ اس سے جنوبی ایشیاء میں موجود کشیدہ صورتحال میں مزید اضافہ ہوجائے گا۔
خیال رہے کہ اوباما حکومت کی جانب سے رواں ماہ کے آغاز میں یہ اعلان کیا گیا ہے کہ وہ پاکستان کو ایک ارب ڈالر مالیت کے ہیلی کاپٹر، میزائل اور دیگر ہتھیار فراہم کرے گا۔
حیسن حقانی کا کہنا ہے کہ پاکستان میں موجود عسکریت پسندوں سے نمٹنے میں دشواری کی وجہ ہتھیاروں کی کمی نہیں بلکہ 'مرضی کا شامل نہ ہونا ہے'۔
انہوں نے کہا کہ جوہری ہتھیاروں کی موجودگی کی صورت میں ہندوستان کی روایتی فوج سے پاکستان کو غیر محفوظ تصور کرنے کی وجہ موجود نہیں ہے۔
سابق سفیر نے کہا کہ امریکا کی جانب سے پاکستان کو فوجی امداد کی فراہمی سے پاکستان میں خط غربت سے نیچے زندگی گزارنے والے دو کروڑ سے زائد پاکستانیوں میں عسکریت پسندی جنم لے سکتی ہے۔
حیسن حقانی کا کہنا ہے کہ پاکستان کو ہندوستان کے حوالے سے موجود اپنے نظریے میں تبدیلی لانا ہوگی کیونکہ اگر ایسا نہ ہوا تو امریکا کی جانب سے فراہم کیا جانے والا فوجی سازوسامان شدت پسندوں کے بجائے ہندوستان کے مبینہ خطرے کے خلاف استعمال کے لیے تعینات کیا جائے گا۔
حقانی نے کہا کہ ہندوستان سے مقابلہ ہمیشہ سے پاکستان کی خارجہ اور داخلی پالیسیز کا حصہ رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ امریکا ہمیشہ سے پاکستان کے ہندوستان سے فوجی برابری کے خود ساختہ فریب کو کافی حد بڑھاوا رہا ہے اور اسی کے تحت کانگریشنل ریسرچ سروس کے مطابق 1950ء سے اب تک امریکا پاکستان کو 40 ارب ڈالر فراہم کرچکا ہے۔
حسین حقانی نے کہا کہ پاکستان کو مزید فوجی سازوسامان فراہم کرنے سے بہتر ہے کہ امریکی حکام پاکستان کو قائل کریں کہ وہ ہندوستان کے حوالے سے پریشان ہونا چھوڑ دیں، اس لیے کہ یہ ایسا ہی ہے جیسے کہ بیلجیم کا فرانس یا جرمنی سے مقابلہ کرنا۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر جاری کی گئی ویڈیو کے مطابق ایک ساحل کے قریب داعش کے جنگجو 15 عیسائیوں کے سر قلم کررہے ہیں جبکہ دیگر 15 افراد کو گولی مار دی گئی—۔فوٹو/ رائٹرز سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر جاری کی گئی ویڈیو کے مطابق ایک ساحل کے قریب داعش کے جنگجو 15 عیسائیوں کے سر قلم کررہے ہیں جبکہ دیگر 15 افراد کو گولی مار دی گئی—۔فوٹو/ رائٹرز

قاہرہ: دولت اسلامیہ (داعش)کی جانب سے جاری کی گئی حالیہ ویڈیو میں لیبیا میں 30 ایتھوپین عیسائیوں کو قتل کرنے کا انکشاف ہوا ہے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق اگرچہ سماجی رابطے کی ویب سائٹس پر جاری کی گئی اس ویڈیو کی صداقت کی تصدیق نہیں کی جاسکی، تاہم اس میں جس طرح مغویوں کو قتل کیا گیا وہ بالکل ماضی کے واقعات جیسا ہی ہے۔
ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک ساحل کے قریب داعش کے جنگجو 15 عیسائیوں کے سر قلم کررہے ہیں جبکہ دیگر 15 افراد کو گولی مار دی گئی۔
ویڈیو میں 'کراس (صلیب) کے ماننے والے دشمن ایتھوپین عیسائی' کے الفاظ پر مشتمل تحریر بھی دیکھی جاسکتی ہے، تاہم لیبیا کے حکام کی جانب سے اس حوالے سے کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا۔
ایتھوپیا کا کہنا ہے کہ ابھی اس بارے میں کچھ کہنا قبل ازوقت ہے کہ ویڈیو میں دکھائے گئے افراد اس کے شہری ہیں، تاہم حکومتی ترجمان ریڈوام حسین کے مطابق حکومت اس اقدام کی مذمت کرتی ہے۔
انھوں نے کہا کہ لیبیا میں ایتھوپیا کا کوئی سفارت خانہ نہیں ہے، تاہم اپنے شہریوں کو لیبیا چھوڑنے میں حکومت مدد فراہم کرے گی۔
حالیہ ویڈیو میں سیاہ لباس میں موجود ایک شخص نے عیسائی مغویوں پر پستول تان رکھی ہے، جب کہ کیمرے کی جانب دیکھتے ہوئے اُس نے کہا 'تمہارے مذہب کے نام پر مسلمانوں کا خون کا بہنا اتنا سستا نہیں ہے'۔
ویڈیو کے آخر میں عیسائیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ 'ہم دوبارہ واپس آگئے ہیں'، ساتھ ہی یہ وارننگ بھی دی گئی ہے کہ عیسائی اُس وقت تک محفوظ نہیں رہیں گے جب تک وہ اسلام قبول نہ کرلیں یا پھر اپنی حفاظت کے لیے مقررہ رقم ادا نہ کردیں۔
یاد رہے کہ داعش سے تعلق رکھنے والے جنگجوؤں نے رواں برس لیبیا میں کئی ہائی پروفائل قتل کے واقعات کا دعویٰ کیا ہے۔
چند ماہ قبل بھی اسلامک اسٹیٹ عرف داعش کی جانب سے انٹرنیٹ پر جاری کی گئی ویڈیو میں 21 عیسائی مصری شہریوں کو قتل کرتے ہوئے دکھایا گیا تھا، ساتھ ہی مصری صدر کو “مناسب” سزا تجویز کرنے پر بھی اکسایا گیا تھا

Friday, 27 March 2015

Wednesday, 25 March 2015

Europe ki gulami pe razamand huwa too
muj ko to giila tuj se ha Europe se nahi

Tuesday, 24 March 2015